الٹی گنگا

عتیق الرحمان

جیسے جیسے دنیا میں تبدیلیاں آ رہی ہیں ویسے ہی ہمیں اپنے رہن سہن میں تبدیلی لانی پڑے گی- اگر چوروں نے سائبر کرائم کے لئے کمپیوٹر سیکھ لیا ہے تو آپ بھی کرائم کو روکنے کے لئے کمپیوٹر سیکھیں- معاشرے میں تبدیلی لانے کے لئے کچھ عادات کو تبدیل کرنا ضروری ھوتا ہے- پہاڑ پر چڑھنا ہو تو منہ اوپر کی طرف ہونا چاہیے-موجودہ دور پہاڑ پر چڑھنے کے مترادف ہے، اسے سر کرنے کے لئے کچھ انوکھا کرناھو گا-بجلی کا بحران bad governance کا نتیجا ہے، غلط اور مہنگے معاھدے ہیں ، ان غلطیوں کی تلافی یا ان کا حل مارکیٹیں بند کرنا نہیں- معاھدوں کو نئے سرے سے دیکھنا ہے نہ کہ مارکیٹیں بند کر کے معاشی بحران کو تقویت دینا – مارکیٹیں نہیں ، انٹر نیٹ بند کریں رات آٹھ بجے تاکہ بچے پڑھ لکھ سکیں – جب گرم لحاف یا اے سی والے کمرے میں نیٹ فلیکس اور پرائم ویڈیو ، موجود ہوں تو پاکستانی فلمیں کون دیکھے گا- سینما کو پروموٹ کرنا ہے تو غیر ملکی فلمیں بند کرو- امپورٹ بل جب تک بوجھ ہے تب تک مقامی مصنوعات کے استعمال کو ترغیب دیں- حادثات پر قابو پانا ہے تو گاڑیوں کے اندر jammers لگانے کا قانون بنائیں- ھلمٹ کا استعمال ضروری بنانا ہے تو موٹر سائیکل کے ignition switch کی ھلمٹ سے ورٹیکل alignmentکریں- جب تک سوار ھلمٹ نہیں پہنے گا موٹر سائیکل چلے گی نہیں- وٹس ایپ اور ٹویٹر پر بے نامی اکاؤنٹس اور ان باکس کی سہولت ، جرم کو پروان چڑھنے میں مدد دے رہے ہیں- دونوں ایپ جرم کی safe havens ہیں ان کو ختم کریں – عدالتوں کے انصاف پر بحث نہ کرو بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دو اور ان کی حفاظت کا گھر کے اندر بھی انتظام کریں -عورت کا سب سے زیادہ استحصال اپنے گھر اور خاندان کے لوگ کرتے ہیں- سی سی ٹی وی کیمرے ،چوروں اور دھشت گردوں سے بچنے کے لئے لگائے گئے تھے لیکن یہ عوام کی نجی زندگی کی فلمیں ریکارڈ کر کے بیچ رھے ہیں – سیاستدانوں کی کرپشن پر بحث وہ قوم کر رھی ہے جو سر سے پاؤں تک کرپشن میں ڈوبی ہوئی ھے- وی لاگ صحافت کو پروموٹ کرنے کے لئے تھے نہ کہ قوم کو تقسیم کرنے کے لئے- بھوت بنگلے وہ پرانے ریسٹ ہاؤس اور کھنڈرات نہیں یہ دس دس کینال کے گھر ہیں جو ہمارے ارد گرد شہر کے وسط میں بنے ہوئے ہیں جن میں جنات قابض ہیں- گند کو کچرے کے ڈبے میں پھینکیں، گند کو پھیلاؤ گے تو بد بو ہی آئے گی،- پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں – ہر بڑے شہر میں میٹرو موجود ہے- اگر ضروری ھے تو گاڑی میں اپنے ساتھ اپنے دفتر یا محلے کے تین مزید افراد کا گروپ بنا کر پٹرول کی قیمت تقسیم کریں- جب مہنگائی اور وزن بڑھنے لگے تو اپنے زبان کے ذائقے کی ترجیح بدل دیں، زبان کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ذائقہ دال ماش کا ہے یا مٹن کا-

Visited 1 times, 1 visit(s) today

You might be interested in